میں محب الوطن تھا ۔۔۔۔ لیکن اب جو حالات ہیں میں حب الوطنی سے تقریباً تائب ہو چکا ہوں ۔۔۔ مجھے اب لگتا ہے تقسیم ہند سے بڑا ظلم کوئی نہیں ہوا۔۔۔ اور انگریز کا اس سر زمین سے جانا دنیا کے بڑے المیوں میں سے ایک ہے۔۔۔
قائد اعظم جلد چلے گئے اس دنیا سے ۔۔۔ مرتے وقت ان کے اس سو کالڈ آزادی کے بارے میں کیا خیالات تھے ۔۔ ہمیں پتہ نہیں چلتا لیکن نہرو اپنے شدید دکھ کا اظہار کر چکا ہے۔۔۔
انگریز کا اس خطے میں سب سے بڑا قصور کلاس سسٹم کو فروغ دینا تھا۔۔۔ کاش اس نے ان رجواڑوں، جاگیر داروں اور مذہبی مرشدوں کو عام آدمی کے مقابلے میں ترجیح نہ دی ہوتی۔۔۔ اور مساوات کو فروغ دیا ہوتا۔۔۔
باقی رہا دو قومی نظریہ تو اس کی حیثیت ایک ڈھکوسلے سے زیادہ نہیں۔۔۔ دو قومی نظریہ ہے مگر وہ دو قومیں امیر اور غریب ہیں ۔۔۔ طاقت ور اور مظلوم ہیں۔۔۔ آزادی کے وقت مسلم اور ہندو پر مبنی دو قومی نظریہ اگر سچا اور صحیح ہوتا تو بنگلہ دیش نہ بنتا۔۔۔ پاکستان میں موجودہ قومیتیں اب کتوں کی طرح نہ لڑ رہی ہوتیں ۔۔۔۔
پاکستان میں بہرحال اب دو قومی نظریہ ایک نئی شکل میں موجود ہے۔۔۔ یہ دو قومیں اسٹیبلشمنٹ اور سویلین ہیں ۔۔۔
سویلین کے دامن میں پسپائی ہے، لاپتہ افراد ہیں، مسخ شدہ لاشیں ہیں، غداری کے سرٹیفکیٹ اور کفر کے فتوے ہیں، مقدمات ہیں، ہتھکڑی میں بندھے اور پنکھے سے لٹکتے مردہ اجسام ہیں اور خود کشی نوٹس ہیں
اسٹیبلشمنٹ کے پاس جشن ہے، ترانے ہیں، میڈیا ہے، سوشل میڈیا نیٹ ورک ہیں، ہر طرح کی جیلیں ہیں، انصاف اور منصف بھی ہیں ۔۔
پھر بھی یہ ملک چل نہیں رہا ۔۔۔ گھسٹ رہا ہے، ہم سانس نہیں لے رہے ۔۔۔ سسک رہے ہیں
ایک گھڑمس ہے جو اس وقت کی صورتحال ہے۔۔۔ نظر کچھ نہیں آ رہا، سنائی کچھ نہیں دے رہا۔۔۔
آج کی تاریخ میں، لمحہ موجود میں معتدل مزاج اساتذہ، جمعہ پڑھانے والے عالم دین، روشن خیال طالب علم، ہولی کھیلنے والی پاکستانی ہندو لڑکیاں، اپنا حق مانگتے سیاسی جمہوری کارکن، تعلیم روزگار اور اپنی زندگی پر اپنا اختیار مانگتی عورتیں ۔۔۔۔ وطن عزیز میں کوئی محفوظ نہیں۔۔
آزاد ہو چکے ہم لیکن ہمارا یوم جمہوریہ قید میں ہے ۔۔۔
ترانے چل رہے ہیں ۔۔ کل اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی ہو گا۔۔۔ کس کو مرعوب کیا جا رہا ہے پتہ نہیں۔۔۔
ہم تو پہلے ہی مفتوحہ ہیں، دشمن کون ہے آپ کا؟؟
فیض صاحب نے قریباً نصف صدی پہلے کہا تھا ہم آج کہ رہے ہیں۔۔۔
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
کچھ بنیادی خامی ہے صاحب،
بیانیہ بدل لیں ۔۔۔۔
قائد اعظم جلد چلے گئے اس دنیا سے ۔۔۔ مرتے وقت ان کے اس سو کالڈ آزادی کے بارے میں کیا خیالات تھے ۔۔ ہمیں پتہ نہیں چلتا لیکن نہرو اپنے شدید دکھ کا اظہار کر چکا ہے۔۔۔
انگریز کا اس خطے میں سب سے بڑا قصور کلاس سسٹم کو فروغ دینا تھا۔۔۔ کاش اس نے ان رجواڑوں، جاگیر داروں اور مذہبی مرشدوں کو عام آدمی کے مقابلے میں ترجیح نہ دی ہوتی۔۔۔ اور مساوات کو فروغ دیا ہوتا۔۔۔
باقی رہا دو قومی نظریہ تو اس کی حیثیت ایک ڈھکوسلے سے زیادہ نہیں۔۔۔ دو قومی نظریہ ہے مگر وہ دو قومیں امیر اور غریب ہیں ۔۔۔ طاقت ور اور مظلوم ہیں۔۔۔ آزادی کے وقت مسلم اور ہندو پر مبنی دو قومی نظریہ اگر سچا اور صحیح ہوتا تو بنگلہ دیش نہ بنتا۔۔۔ پاکستان میں موجودہ قومیتیں اب کتوں کی طرح نہ لڑ رہی ہوتیں ۔۔۔۔
پاکستان میں بہرحال اب دو قومی نظریہ ایک نئی شکل میں موجود ہے۔۔۔ یہ دو قومیں اسٹیبلشمنٹ اور سویلین ہیں ۔۔۔
سویلین کے دامن میں پسپائی ہے، لاپتہ افراد ہیں، مسخ شدہ لاشیں ہیں، غداری کے سرٹیفکیٹ اور کفر کے فتوے ہیں، مقدمات ہیں، ہتھکڑی میں بندھے اور پنکھے سے لٹکتے مردہ اجسام ہیں اور خود کشی نوٹس ہیں
اسٹیبلشمنٹ کے پاس جشن ہے، ترانے ہیں، میڈیا ہے، سوشل میڈیا نیٹ ورک ہیں، ہر طرح کی جیلیں ہیں، انصاف اور منصف بھی ہیں ۔۔
پھر بھی یہ ملک چل نہیں رہا ۔۔۔ گھسٹ رہا ہے، ہم سانس نہیں لے رہے ۔۔۔ سسک رہے ہیں
ایک گھڑمس ہے جو اس وقت کی صورتحال ہے۔۔۔ نظر کچھ نہیں آ رہا، سنائی کچھ نہیں دے رہا۔۔۔
آج کی تاریخ میں، لمحہ موجود میں معتدل مزاج اساتذہ، جمعہ پڑھانے والے عالم دین، روشن خیال طالب علم، ہولی کھیلنے والی پاکستانی ہندو لڑکیاں، اپنا حق مانگتے سیاسی جمہوری کارکن، تعلیم روزگار اور اپنی زندگی پر اپنا اختیار مانگتی عورتیں ۔۔۔۔ وطن عزیز میں کوئی محفوظ نہیں۔۔
آزاد ہو چکے ہم لیکن ہمارا یوم جمہوریہ قید میں ہے ۔۔۔
ترانے چل رہے ہیں ۔۔ کل اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی ہو گا۔۔۔ کس کو مرعوب کیا جا رہا ہے پتہ نہیں۔۔۔
ہم تو پہلے ہی مفتوحہ ہیں، دشمن کون ہے آپ کا؟؟
فیض صاحب نے قریباً نصف صدی پہلے کہا تھا ہم آج کہ رہے ہیں۔۔۔
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
کچھ بنیادی خامی ہے صاحب،
بیانیہ بدل لیں ۔۔۔۔
مبارک ہو ندیم بھائی خوبصورت جاندار تحریر
ReplyDeleteپہلا قدم ہی بہت مضبوط ہے ماشاللہ
شکریہ شاہ جی۔۔۔
Deleteجذبات میں الفاظ کا چناؤ تحریر کی ثقاہت کو بری طرح متاثر کررہا ھے مصنف جانبداری کو اپنے بدترین معنوں میں استعمال کا مرتکب ھے
ReplyDeleteجی بھائی متاثرہ فریق ہوں اسلئے جانبدار ہوں، اور شکستہ ہوں اسلئے نقاہت بھی ہے۔۔
ReplyDeleteاچھا ہے ۔۔ اپنے احتجاجی جتھے میں اضافہ تو ہوا ۔۔ مقصود البتہ افاقہ ہے ۔۔ نتائج کے حصول کےلیےالفاظ کا بے دانت ہونا اورانصاف کی میزان میں ہلکے پھلکےکنکر بٹے کی دلیلیں ڈالتے رہنا کارگر رہتا ہے ۔ سفر لمبا ہے اگلی نسل کی ذہن سازی قرض ہے ۔ قرض کو فرض سمجھ کر تھوڑا تھوڑا ادا کر دینا ہی مثبت عمل ہے
ReplyDeleteبہت اچھا لیکن یہ جو طاقت کا مظاہرہ ہوگا انکی اس طاقت کا سبکو پتا ہے کیسے ہم 65 کی جنگ لڑے کیسے 71 میں آدھا ملک دے آئے کارگل میں کیا ہوا سب جانتے ہیں ابھی نندن ایک دن میں لوٹا دیا عوام کو کھلونے دکھا کے امپریس کر رہے ہیں اب دنیا کی پاورفل فوج کا بیانیہ بھی تو بیچنا ہے ورنہ عوام کیسے خریدے گی
ReplyDelete