Friday, 22 March 2019

یہ داغ داغ اجالا۔۔۔

‏میں محب الوطن تھا ۔۔۔۔ لیکن اب جو حالات ہیں میں حب الوطنی سے تقریباً تائب ہو چکا ہوں ۔۔۔ مجھے اب لگتا ہے تقسیم ہند سے بڑا ظلم کوئی نہیں ہوا۔۔۔ اور انگریز کا اس سر زمین سے جانا دنیا کے بڑے المیوں میں سے ایک ہے۔۔۔

قائد اعظم جلد چلے گئے اس دنیا سے ۔۔۔ مرتے وقت ان کے اس سو کالڈ آزادی کے بارے میں کیا خیالات تھے ۔۔ ہمیں پتہ نہیں چلتا لیکن نہرو اپنے شدید دکھ کا اظہار کر چکا ہے۔۔۔

انگریز کا اس خطے میں سب سے بڑا قصور کلاس سسٹم کو فروغ دینا تھا۔۔۔ کاش اس نے ان رجواڑوں، جاگیر داروں اور مذہبی مرشدوں کو عام آدمی کے مقابلے میں ترجیح نہ دی ہوتی۔۔۔ اور مساوات کو فروغ دیا ہوتا۔۔۔

باقی رہا دو قومی نظریہ تو اس کی حیثیت ایک ڈھکوسلے سے زیادہ نہیں۔۔۔ دو قومی نظریہ ہے مگر وہ دو قومیں امیر اور غریب ہیں ۔۔۔ طاقت ور اور مظلوم ہیں۔۔۔ آزادی کے وقت مسلم اور ہندو پر مبنی دو قومی نظریہ اگر سچا اور صحیح ہوتا تو بنگلہ دیش نہ بنتا۔۔۔ پاکستان میں موجودہ قومیتیں اب کتوں کی طرح نہ لڑ رہی ہوتیں ۔۔۔۔

پاکستان میں بہرحال اب دو قومی نظریہ ایک نئی شکل میں موجود ہے۔۔۔ یہ دو قومیں اسٹیبلشمنٹ اور سویلین ہیں ۔۔۔

سویلین کے دامن میں پسپائی ہے، لاپتہ افراد ہیں، مسخ شدہ لاشیں ہیں، غداری کے سرٹیفکیٹ اور کفر کے فتوے ہیں، مقدمات ہیں، ہتھکڑی میں بندھے اور پنکھے سے لٹکتے مردہ اجسام ہیں اور خود کشی نوٹس ہیں

 اسٹیبلشمنٹ کے پاس جشن ہے، ترانے ہیں، میڈیا ہے، سوشل میڈیا نیٹ ورک ہیں، ہر طرح کی جیلیں ہیں، انصاف اور منصف بھی ہیں ۔۔
پھر بھی یہ ملک چل نہیں رہا ۔۔۔ گھسٹ رہا ہے، ہم سانس نہیں لے رہے ۔۔۔ سسک رہے ہیں

ایک گھڑمس ہے جو اس وقت کی صورتحال ہے۔۔۔ نظر کچھ نہیں آ رہا، سنائی کچھ نہیں دے رہا۔۔۔

آج کی تاریخ میں، لمحہ موجود میں معتدل مزاج اساتذہ، جمعہ پڑھانے والے عالم دین، روشن خیال طالب علم، ہولی کھیلنے والی پاکستانی ہندو لڑکیاں، اپنا حق مانگتے سیاسی جمہوری کارکن، تعلیم روزگار اور اپنی زندگی پر اپنا اختیار مانگتی عورتیں ۔۔۔۔ وطن عزیز میں کوئی محفوظ نہیں۔۔
آزاد ہو چکے ہم لیکن ہمارا یوم جمہوریہ قید میں ہے ۔۔۔

ترانے چل رہے ہیں ۔۔ کل اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی ہو گا۔۔۔ کس کو مرعوب کیا جا رہا ہے پتہ نہیں۔۔۔

ہم تو پہلے ہی مفتوحہ ہیں، دشمن کون ہے آپ کا؟؟
فیض صاحب نے قریباً نصف صدی پہلے کہا تھا ہم آج کہ رہے ہیں۔۔۔

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

کچھ بنیادی خامی ہے صاحب،

بیانیہ بدل لیں ۔۔۔۔